رنگ نظام

  • بسم اللہ الرحمن الرحیم۔وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ(العنکبوت 69)۔

ہمارے سلسلہ کا تربیتی تعارف نامہ از ملفوظات امین المشائخ
پسِ منظر :
سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ کی خانقاہی تاریخ1119برس قبل کی ہے۔ جب چوتھی صدی ھجری کے اوائل میں پہلی خانقا ہِ چشتیہ نے باضابطہ اور منظم طریقہ روحانی تربیت امّتِ مسلمہ کو دیتے ہوئے تزکیہ ٔ نفس اور تالیفِ قلب و روح کا ایک باقاعدہ ادارہ قائم کردیا ۔جو اپنی بارہویں صدی میں اس طرح داخل ہورہاہے کہ اس کے بانیٔ ثانی حضرت سلطان المشائخ خواجہ سیّد محمد نطام الدین اولیاءؒ کے وصال شریف کو 700 برس پورے ہوگئےہیں ۔
درگاہِ خاص محبوب الٰہی ؒ ۔دھلی شریف کے اما م و مرکزی سجادہ نشین شمس المشائخ حضرت خواجہ سیّد اسلام الدین نظامی کی سرپرستی میں اور خلفِ سجادہ ٔ محبوب الٰہی امین المشائخ حضرت حافظ خواجہ محمد امین الدین نظامی کی نگرانی میں سلسلہ عالیہ کے روحانی ذمہ داران اور خادمین کے ہاتھوں آئندہ دو برس میں تجدیدِ سلسلہ کا تاریخی کام انشاء اللہ انجام پذیر ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ سلسلہ عالیہ کے قرونِ اولیٰ سے ماخوذ نظامِ تربیت ، باقاعدہ نصاب کے تحت مریدین اور طالبین کو مشقی اور روحانی امتحان سے گزارتے ہوئے نافذ کیاگیا ہے۔جسکا پسِ منظر یہ ہے کہ مؤرخہ 7 صفر 1417 ھجری کو تقریبِ نیابت و جانشینی کے ساتھ سجادہ نشین ِ درگاہ ٔ خاص نے خود پاکستان تشریف لا کر خیابانِ نظامی ناظم آباد کراچی دستار بندی کے ساتھ ماورائے دھلی امین المشائخ کی جانشینی کا اعلان فرمایا اور اسی موقع پر اپنی شہادت و سرپرستی میں امین المشائخ کے دستِ مبارک پر بیعت کروائی اور انہیں پاکستان میں اور بیرونِ پاکستان میںبیعت شدگان کا پیر و مرشد قرار دیا۔اُس وقت سے اب تک ۱۱ ہزار ۲ سو ۹۱ افراد کی نظامی سازی اور 832 افراد کی قبولیتِ اسلام اور 101 خلفاء سمیت 991 افراد کو رُشد و ہدایت اور خدمتِ خلق کا حامل قرار دینے کا عمل پورا ہوچکا ہے اور یہ سفر مزید جاری ہے۔تاوقتیکہ مرشدِ گرامی کی گوشۂ نشینی کے باوجود تجدیدِ سلسلہ کا عمل پورا ہوجائے۔ جس کے لیئے نظامِ تربیت کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیے۔


نظامِ تربیت


٭امین المشائخ الحاج حافظ مخدوم خواجہ محمد امین الدین نظامی کے زیرِ نگرانی چشتیہ ، قادریہ،نقشبندیہ ، سہروردیہ، شاذلیہ اور اویسیہ یعنی چھ بنیادی فقۂ روحانی کے آئمہ و بانیانِ کرام (رحمۃ اللّٰہ علیھم) کی تعلیمات ومناقب کیساتھ تربیت سلوک کی سہولت فراہم کرکے متعلقہ خانقاہوں کی آغوشِ تربیت میں داخل سلسلہ کرادینے اور مرکزی سجادہ نشین درگاہ خاص محبوب الٰہی ؒ کی سرپرستی میں نظامی سازی کی سہولت موجود ہے۔جس کیلئے روحانی تربیت سے قبل مزاج ِ روحانی اورر نگِ سلسلہ تشخیص کیا جاتا ہے۔پھر 3 روزہ ،10 روزہ ،40 روزہ،92 روزہ ،300 روزہ اور 1001 روزہ بنیادی تربیت (بلحاظِ اعداد ِ جانِ کائنات ﷺ اور بلحاظِ روحانی تعین ) سے گذار کر شش (۶) جہتی تربیت کا آغاز جن نکات پر ہوتا ہے وہ یہ ہیں(جن کے بعد درجاتِ ولایت سے تعارف کرایا جاتا ہے۔):۔۱۔اراکین ِ ستّہ ۲۔معمولاتِ ستّہ۔۳۔اسباقِ ستّہ۔۴۔آدابِ ستّہ۔۵۔ترتیلی ابواب ستّہ۶۔عاملین ِ ستّہ۔۷۔شرائط ستّہ ۔۸۔مطالعاتِ سّتہ ۔۹۔ اوا مرونواہی ستّہ۔۱۰۔تاکیداتِ ستّہ۔۱۱۔نفوسِ ستّہ۔۱۲۔ منازلِ ستّہ۔(ملاحظہ فرمائیے شجرہ طیبہ چشتیہ نظامیہ دھلی شریف)۔جبکہ ابتدائی تربیت میںپاسداریٔ چہار چہار یعنی چار ترک ( شرک+غیبت+ جھوٹ+نفاق) اور چار اختیارات
( یعنی قلتِ کلام)کلام+قلتِ طعام+ قلتِ منام+قلتِ عوام)اور چار واجبات ( یعنی نمازِ پنجگانہ مع تہجد/ اوابین+ خدمت والدین+ خدمتِ خلق+لقمۂ  حلال)اور چار حقوق ( یعنی عینان+ زبان+کان اوردھیان کو آلودگی سے بچانا) شامل ہیں۔(واضح رہے کہ خواجہ بزرگ ؒ کے مقرر کردہ چہار ترک اس پاسداری چہار چہار میں شامل ہیں جبکہ چار ترک اور چار اختیارات صرف لفظی اور اصطلاحی فرق میں پڑھیں جائیں نہ کہ تعمیلی اور معنوی فرق میں)۔

٭ علاوہ ازیں زکاتِ ساعات میں ایامِ بیض کے روزے ، 92 روز میں سوا لاکھ بار ختم درود شریف بہ حضوریٔ دربار رسالت ﷺ اور ذکر مستغفرین بالا سحار ( ذکر استغفار) اور دعائے عکاشہ ؓ( ذکر توبہ) شامل ہیں۔٭ جبکہ روزانہ بوقتِ تہجد مشقِ ذکرومراقبہ بہ رابطۂ شیخ تاکیداً ہے اورہفتہ واری محافلِ ذکرومراقبہ ،2 گھنٹے دورانئے کی منعقد کی جاتی ہیں ۔جس میں سائلین کے روحانی اور شرعی مسائل پر اسلامی مشورہ، تلقین ذکر (نفی اثبات + پاس انفاس مع اسم ذات اَحدیّت) ،اسباق سلوک کی تشریح ، لطائف ستہ،مراقبہ،نعت شریف ،قصیدہ بردہ شریف ،تلاوت ِ قرآن پاک،صلاۃ وسلام، فائحہ خوانی ، شجرہ خوانی اور ختم خواجگان شریف کے ساتھ لنگر کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔

٭ہر 40 روزبعد محفلِ مراقبہ میں تجزیاتی و محاسباتی روحانی اجلاس ِ المعروف بہٖ ’’نظامی نجویٰ‘‘منعقد ہوتا ہے۔ ( جو قبل ازیں 92 روزہ اور 200 روزہ ہوا کرتاتھا)٭ ہر 30 روز بعد نظامی صُفّہ میں مرشدانہ خطاب کے ذریعے روحانی اور مشقی تربیت دی جاتی ہے۔٭ہررمضان شریف میں ’’ جامع تراویح اورنظامی اجتماعی اعتکاف‘‘ کا اہتمام ہوتا ہے جسمیں علم ترتیل کی نشست امیر اعتکاف کی جانب سے منعقد ہوتی ہے۔جسکے آخیر میں سندِ علمِ ترتیل جاری کی جاتی ہے۔ ٭ شب ہائے مقدسہ میں خاص روحانی تربیت کا اہتمام ہے۔(یعنی شبِ عاشور ، شبِ عیدِ میلاد،شبِ معراج، شبِ برأت،شبِ قدراورشبِ جائزہ )۔

علاوہ ازیں احیائے سنت رسول اللہ ﷺ کی راہ میں محفلِکسوف ،محفلِ خسوف (سورج اور چاند گرہن کی محافل) اور محفلِ استسقاء(برائے بارش)اور محفلِ زلزال(زلزلے سے متعلق) اور محفلِ قارعہ (برائے دھماکہ و دہشت گردی )اور محفل ِ نوح (برائے سیلاب و طوفانی اثرات) کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔

٭ نجویٰ وار ملاحظات میں جو بیاضیںمرشد کو پیش کی جاتی ہیں وہ یہ ہیں : ٭بیاضِ مراقبہ (برائے کیفیات و تجزیۂ روحانی)٭ بیاض محاسبہ ( برائے محاسبۂ نفس ومعمولاتِ ستّہ) ٭بیاض مکاشفہ( برائے اندراجِ کیفیات ومکاشفات) ٭ بیاض خدمت: (برائے خدمتِ خلق )٭بیاض تحقیق :( برائے علمی تحقیق)٭بیاض تفویض : ( مرشد کے عطاء فرمودموضوع پر ذاتی تحقیقی کام )٭ مشائخ عظام کی خدمت میں اُن کی خانقاہوں سے رجوع کرنے کی صورت میں اور اُن کی تشریف آوری پر تمام معمولات کی تعطیل کر کے اُنکی صحبت ِ فیض رساں میں بھیجا جاتا ہے۔٭ خدمت خلق کیلئے اللہ کے بندوں کے مصائب اور پریشانیوں میںروحانی و طبی تدابیر کے ساتھ ’’ نظامی دارالشفاء کی عملی تربیت( حسبِ معیار داخلہ ) دی جاتی ہے۔٭روحانی ذمہ داران کیلئے طے شدہ نصاب کے تحت بامفہوم حفظِ قرآن ہونا لازمی ہے۔

٭مکارم اخلاق وآداب کی پاسداری کیلئے باہمی تلقین و نگرانی کا عمل جاری رہتاہے۔٭مکتوبات، فکری نشستیں اور مطالعاتی دورے حصۂ تربیت ہیں۔ ٭ سالانہ روحانی تربیتی اجتماع ( بہ مناسبت عرسِ محبوب الٰہی ؒ) باقاعدگی سے منعقد ہوتا ہے (علاوہ ازیں دیگرسلاسل کے سالانہ مرکزی ایام میں بھی تربیتی اجتماع کا اہتمام ہوتا ہے۔)٭ نظافت و طہارت کی پاسداری بھی حصۂ تربیت ہیں۔٭ حقوق اللہ ، حقوق العباد اور حقوقِ نفس بھی توازن کی عملی تربیت بھی جاری رہتی ہے۔٭ ارکانِ اسلام کی پابندی کے ساتھ رزقِ حلال کی تلاش و نگرانی کی عملی تربیت بھی دی جاتی ہے۔٭ والدین کی خدمت ہمارے شعارِ تربیت کا حصہ ہے۔٭ پردہ پوشی اور بر وقت اصلاح بھی ہمارے تربیتی نظام کا تاکیدی حصہ ہے۔٭شرعی حجاب اور سرپوشی اور ہمہ وقت باوضو رہنے کی مشق بھی ہمارے نظامِ تربیت کا واجب حصہ ہے۔٭ثقافتِ نظامیہ کا تحفظ اور عروسیات و تعزیات میں رسومات کا اسلامی متبادل ہمارے نظام ِ تربیت کا عملی حصہ ہے۔( مثلاً عروسی اعتکاف بجائے مایوں ، رسمِ حناء بجائے مہندی ، حصارِ فاطمی بجائے امام ضامن ،خِطبہ بجائے منگنی،عندیہ بجائے رشتہ طلبی،رسمِ وداع بجائے رُخصتی مع ولیمہ و نکاح )٭ جبکہ تعزیات میںتجہیز وتکفین اور بعدِ تدفین ایصالِ ثواب کے اجتماعات میںشرعی تقاضے پورے ہونے کی نگرانی کی جاتی ہے۔

نوٹ: یہ تمام نظام ِ تربیت ابتدائی اور وسطی سطح کا ہے جسکی تشریح کیلئے ادارے کے ماحول میں آنا ناگزیر ہے۔ جبکہ اعلیٰ سطحی تربیت کیلئے صحبت ورابطۂ مرشد ضرور ی ہے۔


.

( اساسِ تنظیم : سیرت رسول اللّٰہ ﷺ )

امام تنظیم نظامی : حضرت محبوب الٰہی نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ سرپرست تنظیم: مرکزی سجادہ نشین خانقاہ نظام الدین اولیاء ؒ ۔دھلی شریف
مشیر تنظیم: امین المشائخ الحاج حافظ خواجہ مخدوم حضرت محمد امین نظامی مدظلہٗ عالی
( برائے حلقہ جاتی انتظامی امور اور برائے خارجی امور )

٭ مدیرِ تنظیم ٭ رئیس تنظیم ٭نائب رئیسِ تنظیم ٭امینِ تنظیم
(برائے روحانی و تربیتی امور)

نائب مرشد،خلفائے مجاز،خواتین مجازِ سلسلہ،خلفائے امین المشائخِ،
نامزد امین سلسلہ ،امین سلسلہ،امیر حلقہ،نائب امیر حلقہ،مجازِ حلقہ،
اہلِ امانت ،اہل تبرک ،مرید۔

نوٹ: مرکزی خانقاہِ نظامیہ سے حکماً سند واجازت وخلافت کے بعد سلسلۂ نظامیہ میں داخل کرنے کیلئے’’خلفائے مجاز‘‘ کی تعیناتی بھی کردی جاتی ہے ۔ تاکہ نظامی سازی کا خانقاہی حکم تعمیل پذیر ہوسکے اور درگاہِ خاص دہلی شریف کو رپورٹ بھیجی جاسکے۔ اسی طرح روحانی ذمہ داران کی توثیق بھی درگاہِ خاص سے ہوتی ہے۔ اور ذمہ داریاں بذریعہ نائب ِ مرشد تقسیم کی جاتی ہیں۔

مرکزی نظم ونسق

یہ قرار داد ادارے کے روزِ تاسیس سے ہی طے کردی گئی تھی کہ ادارے کا کوئی بھی روحانی ذمہ دار آئندہ منازل ترقی کے بعد بھی غیر سند یافتہ پیرِ طریقت ہونیکا دعویٰ دار نہ ہوگا اور اگر     خیال ِعامہ ایسے گمان کی تشہیر کریگا ،تو علم ہوتے ہی از خود تردید جاری کرے گا۔ ( کیونکہ پیرانِ عظام کے مراتب و ریاضت میں یہ بات سُوئے ادب ہے کہ بے علم و بے عمل مرشدی کا تائثر دیا جائے)۔٭ اسی طرح حتی الامکان اپنے معاشرے میں ثبوت مل جانے پر جعلی پیرانِ طریقت اورخود ساختہ سجادہ نشینان وخلفاء کی حوصلہ شکنی کرے گا تاکہ سچے روحانی اکابر کامنصبی دفاع اور خدمت ہوسکے۔
٭اسی طرح دیگر سلسلوں کے مشائخ عظام مدظلہم عالی کا ادب لازمی کرے گا۔٭ علمائے حق زید علمھم کی شان میں ،اولیاء کرام ؒکی شان میں ،صحابہ کرامؓ کی شان میں ،اہل بیعت اطہار ؑ کی شان میں، رسول اللہ ﷺ کی شان میں اور اللہ ذاتِ احدیت باری تعالیٰ کی شان میں ذرہ بھربھی گستاخی برداشت نہیں کرے گا۔٭ کسی قسم کی مذہبی یا دینی قیادت
اورمرتبۂ ولایت کا منصبی خطاب اپنے نام کے ساتھ چسپاں کرنیکا دعویدار نہ ہوگا۔٭’’نفی ٔذات‘‘ کو اثبات ِ حق کیلئے ہر آن لازم کرے گا۔چنانچہ انتہائی احتیاط کے ساتھ بغیر کسی
دعوے کے درج ذیل نظمِ روحانی ادارے کے مرکزی نظم ونسق  کے لئے لازمی محسوس کیا گیا۔

 تاسیس و تشکیل


٭ تاسیسی مراحل کا آغاز : شبِ معراج 1413 ھجری
 ٭نجویٰ اوّل: 18 ربیع الثانی 1416 ھجری( امیر نجویٰ عثمان احمد نظامی)
٭نجویٰ ثانی: 17شوال 1417 ھجری ( امیر نجویٰ شگفہ اقبال)
 ٭ تشکیلی مراحل کا آغاز (بہ مشورۂ شیخ النعت شاہ انصار الہ آبادی ) شبِ معراج 1416 ھجری
٭ قراد داد نظامی ؒ ۔یوم خسرو ( 17 شوال 1416 ھجری)
٭ 21 روزہ پیشگی انتظار ِ مرکزی سجادہ نشین خانقاہ محبوب الٰہی ؒ (حضرت خواجہ اسلام الدین نظامی) 7 صفر 1417 ھجری بعد از عرس بابا فرید شکر گنج ؒ
٭ مرکزی سند وا جازت سلسلۂ نظامیہ ؒ : 7 صفر 1417 ھجری
 ٭21 روزہ تربیت ِشاقہ برائے امتحانِ امین ِ سلسلہ: ۔ 7 صفر تا 27 صفر 1417 ھجری٭تعیناتی امین سلسلہ: 27 صفر 1417ھجری ( یوم مہر علیشاہ نظامی ؒ گولڑہ شریف)
٭اوّلین مجازِ سلسلہ: شگفتہ منور نظامی عطاء فرمودۂ مرکزی سجادہ نشین۔
٭ تیسری سالانہ محبوب الٰہی ؒ کانفرنس وعرس شریف 18 ربیع الثانی 1417 ھجری بمقام خانقاہِ وارثیہ مع احکام ِ نجویٰ
٭ نجویٰ ثالث: 12 جمادی الاوّل 1417 ھجری(امیرنجویٰ صفیہ منور نظامی)
٭نجویٰ رابع : شبِ معراج 1417 ھجری ( امیر نجویٰ حافظ عدنان نظامی)
٭ نجویٰ خامس: 20 شوال 1417 ھجری ( امیر نجویٰ شیخ نفیس القادری نظامی)
٭ نجویٰ سادس 19 محرم 1418 ھجری ( امیرِ نجویٰ شیخ ارسلان نظامی)۔

نوٹ: دریں اثناء انتہائی اہم روحانی و تاریخی یادگار ایام گذرے جو اہل حلقہ کے علم میں ہیں۔ علاوہ ازیںابتک کُل 64 نجوات منعقد ہوچکی ہیں۔
٭مزید براںدیگر سلاسل کی ہر روحانی تنظیم(مثلاً انجمن خدام الصوفیہ) اپنا نظام ِ تربیت اور نظم و نسق علیحدہ رکھے گی۔
ماخوذ : ۔ یوم تاسیس نمبر



.